چندی گڑھ، 28 مئی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں گزشتہ 15 دن سے مسلسل اضافہ ہو رہی ہے جس سے مہنگائی کی آگ گھی کا کام کیا ہے ۔ کانگریس تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے جارہی ہے ۔
پنجاب کانگریس کے صدر اور ایم پی سنیل کمار جاکھڑ نے پیر کو چندی گڑھ میں بتایا کہ مئی 2012 میں پٹرول کی قیمت 73 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی تو بی جے پی نے بھارت بند کا انعقاد کیا تھا۔اگرچہ اس وقت خام تیل کی قیمت 104 ڈالر فی بیرل تھی، لیکن آج جب خام تیل 67 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر دستیاب ہے تو کانگریس نے سوال اُٹھایا کہ ڈیزل 69 روپے اور پٹرول 78 روپے فی لیٹر کیوں فروخت ہو رہا ہے؟
سنیل جاکھڑ نے کہا کہ بی جے پی ساہوکاروں کی حکومت ہے۔ اس نے تیل پر ٹیکس لگا کر عام آدمی سے تین لاکھ کروڑ روپے وصول کر لیے اور ہر شخص کو سڑک پر کھڑا کردیا۔ کانگریس بی جے پی کو اس کی زبان میں یاد دلانا چاہتی ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے کسان اور عام آدمی کس طرح سے متاثر ہو رہا ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے کئی رہنماؤں کی طرف سے 31 مئی 2012 کو اپوزیشن میں رہتے ہوئے تیل کی بڑھی قیمتوں پر دیئے ان کے بیان یاد دلائے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت ڈیزل 40 روپے فی لیٹر اور پٹرول 73 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا تو یہ لیڈر آسمان سر پر اٹھا رہے تھے، لیکن اب جبکہ خام تیل کی قیمتیں 2012 کے مقابلے تقریبا نصف رہ گئی ہیں تو بھی ملک میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔